ناصر کاظمی

ناصر کاظمی کی تمام کتابیں pdf

نشاطِ خواب ناصر کاظمی دیوان ناصر کاظمی خشک چشمے کے کنارے ناصر کاظمی سُر کی چھایا ناصر کاظمی ...

نشاطِ خواب ناصر کاظمی

ناصرؔ یہ شعر کیوں نہ ہوں موتی سے آبدار اِس فن میں کی ہے مَیں نے بہت دیر جاں کُنی ناصرؔ کاظمی کی جاں کُنی کا اظہار ان کی تخلیقات ہیں جنہوں نے...

دیوان ناصر کاظمی

 "شاعری کو شور آفرینی کے انداز سے پاک و صاف کرنے میں راشد، میراجی کے فوراَ بعد جس شاعر نے غیر معمولی شائستگی، ضبط اور سلیقے سے کام لیا ...

خشک چشمے کے کنارے از ناصر کاظمی

 ناصرؔ کاظمی کا نثری سرمایہ کافی کم ہے لیکن انہوں نے نثر میں بھی جو کچھ لکھا اچھا لکھا۔ "خشک چشمے کے کنارے" میں ناصرؔ کے ریڈیو فیچ...

سُر کی چھایا ناصر کاظمی

ناصرؔ کاظمی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں لیکن انہوں نے نظمیں بھی لکھیں اور مضامین بھی اور "سُر کی چھایا" کی صورت میں ایک ڈرامہ بھ...

ڈائری (چند پریشاں کاغذ) ناصر کاظمی

 ناصر کاظمی کی ڈائری، اُن کی آپ بیتی بھی ہے اور رُوداد بھی۔ یہ روزنامچہ بھی ہے اور کہیں کہیں اس میں مکالمہ نویسی اور خاکہ نگاری کا اسلوب بھی...

اعتبارِ نغمہ ناصر کاظمی

ناصرؔ کاظمی کا شمار جدید غزل کے ان چند شعراء میں ہوتا ہے جنہیں ان کی زندگی میں ہی مقبولیت ملنی شروع ہو گئی تھی۔ پُر کشش اندازِ بیاں، سنجیدہ ...

برگِ نے از ناصر کاظمی

ناصرؔ کی شاعری ان کے دل کی آواز ہے۔ انہوں نے اپنی قلبی واردات اور احساسات کو سیدھے سادے مگر پُر اثر انداز میں بیان کیا ہے کہ ان کا ایک ایک ل...

پہلی بارش ناصر کاظمی

ناصرؔ کاظمی کا مجموعہ کلام "پہلی بارش" سہلِ ممتنع کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ ناصرؔ کا تیسرا مجموعہ ہے جس میں ایک بحر اور زمین میں کہی ...

انتخاب میر تقی میر از ناصر کاظمی

محمد تقی نام۔ میرؔ تخلص۔ پردادا حجاز سے دکن آئے۔ وہاں سے احمد آباد (گجرات) میں آ کر قیام کیا۔ آخر اکبرآباد (آگرہ) میں مستقل سکونت اختیار کر ...

انتخاب انشاؔ از ناصر کاظمی

انشاؔ کا مختصر سوانحی خاکہ سید انشا اللہ خاں نام انشاؔ تخلص، 1756ء اور 1757ء کے درمیان مرشد آباد میں پیدا ہوئے۔ بزرگ نجفِ اشرف سے آ کر دِلی ...

انتخاب ولی از ناصر کاظمی

اُردو زبان کے محسن، ولی محمدا لمتخلص بہ ولی 1668ء میں بمقام اورنگ آباد، دکن پیدا ہوئے اور 1742ء میں احمد آباد (گجرات) میں وفات پائی۔ بیس برس...

انتخاب از کلیاتِ ناصر کاظمی (حصہ دوم)

85 پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں رت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئ...

Load More
No results found